فرمانِ باری تعالی : أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ کا کیا معنی ہے؟
اللہ تعالی نے ہی ہر چیز کو پیدا کیا ہے، اور ان مخلوقات الہیہ میں تمام آسمان، زمین، اور جو کچھ ان میں ہے اور ان کے اوپر ہے اور ان کے درمیان میں ہے سب کے سب شامل ہیں ، چنانچہ اوپر نیچے کے سب آسمان، میدانی زمینیں، چمکتے سیارے، روشن تارے، گڑے ہوئے پہاڑ، متنوع معدنیات، ہر قسم کے درخت، پانی، ہمہ قسم کے حیوانات، چلتی پھرتی ہوائیں، عظیم فرشتے، انسان، جن، پرندے، حیوانات، جمادات، اور نباتات سب کی سب اللہ کی مخلوق ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ ترجمہ: یہ اللہ تعالی کی مخلوقات ہیں، مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے علاوہ تمہارے معبودوں نے کیا پیدا کیا ہے؟[لقمان: 11]
یہ اتنی بڑی بڑی مخلوقات ان کے خالق کے عظیم ہونے کی دلیل ہیں، ان مخلوقات کی بے شمار تعداد ان کے خالق کی قدرت کی دلیل ہیں، ان کی مختلف رنگت اور انواع و اقسام ان کے خالق کے تجربے کی دلیل ہیں، ان تمام چیزوں کی الگ الگ ذمہ داریاں، اور فوائد خالق کے حکیم ہونے کی دلیل ہیں، ان تمام چیزوں کا با حفاظت رہنا اور ان کے معاملات تسلسل کے ساتھ چلتے رہنا خالق کے زندہ ہونے ، صاحب علم ہونے، طاقت اور قوت والے ہونے کی دلیل ہیں، اسی لیے تو فرمانِ باری تعالی ہے: اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے وہی ہمیشہ سے زندہ ہے اور وہ ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔ [البقرة: 255]
وہی ہمارا رب ہے جو ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہی ہر چیز کا خالق ہے، اور اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے؛ فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ترجمہ: یقیناً تمہارا پروردگار وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر مستوی ہوا، وہی ہے جو رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے، دن رات کو تیزی سے تلاش کرتا ہے۔ سورج ، چاند اور تارے اسی کے حکم کے تابع ہیں، یقیناً وہی پیدا کرتا ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے، اللہ رب العالمین کی ذات نہایت بابرکت ہے ۔[الأعراف: 54]
ذات باری تعالی ہمہ قسم کے عیب سے پاک ہے، اس کے تمام نام اور صفات نہایت بہترین اور اعلی ہیں، وہ جو چاہتا ہے ہو تا ہے، اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، زمین یا آسمان میں کوئی چیز اس کی پکڑ سے باہر نہیں ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ترجمہ: وہ جب کسی چیز کا ارادہ فرمائے تو وہ صرف یہ کہتے ہوئے حکم دیتا ہے کہ ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے۔[يس: 82]
ہمارا پروردگار ہر چیز پر قادر ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور جیسے چاہتا ہے تخلیق فرماتا ہے اسی لیے فرمانِ باری تعالی ہے: وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ترجمہ: اللہ تعالی نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے، تو ان میں سے کچھ پیٹ کے بل چلتے ہیں، اور کچھ دو ٹانگوں پر چلتے ہیں اور کچھ چار ٹانگوں پر چلتے ہیں۔ اور اللہ تعالی جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے؛ یقیناً اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔[النور: 45]
ہمارا پروردگار غالب اور طاقتور ہے اس بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے: خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ ترجمہ: اللہ تعالی نے تمام آسمان نظر آنے والے ستونوں کے بغیر پیدا کیے ہیں، اور زمین میں پہاڑ گاڑ دئیے ہیں کہ تمہیں ہلا نہ دے، اور پھر اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دئیے، اور آسمان سے پانی نازل کیا ، اور اس میں ہر طرح کے بہترین جوڑے پیدا فرمائے۔ [لقمان: 10]
ہمارا رب ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ترجمہ: کیا آپ دیکھتے نہیں کہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں موجود ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں مشورہ ہو تو چوتھا وہ (اللہ) نہ ہو یا پانچ آدمیوں میں مشورہ ہو تو ان کا چھٹا وہ نہ ہو۔ (مشورہ کرنے والے) اس سے کم ہوں یا زیادہ، وہ یقیناً ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔ پھر وہ قیامت کے دن انہیں بتا (بھی) دے گا جو کچھ وہ کرتے رہے۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ [المجادلة: 7]
ہمارا رب ہی ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور ہمارے لیے رزق بھی پیدا فرمایا، فرمانِ باری تعالی ہے: يَاأَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ ترجمہ: اے لوگو ! تم پر اللہ کے انعامات ہیں انہیں یاد رکھو کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو اس کے سوا کوئی معبود نہیں، آخر تم کہاں سے دھوکا کھا رہے ہو ۔[فاطر: 3]
ہمارا پروردگار باریک بین اور نہایت خبر رکھنے والا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ترجمہ: پیارے بیٹے! اگر (تیرا عمل) رائی کے دانے کے برابر بھی ہو وہ خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، اللہ اسے نکال لائے گا۔ اللہ یقیناً باریک بین اور باخبر ہے۔ [لقمان: 16]
ہمارا پروردگار علم رکھنے والا اور قدرت رکھنے والا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (49) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ ترجمہ: آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہے بیٹے دیتا ہے۔ [49] یا انہیں ملا جلا کر دیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ بنا دیتا ہے وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔ [الشورى: 49-50]
ہمارا پروردگار بہت زیادہ سخی اور نہایت کرم کرنے والا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ترجمہ: اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور آسمان کو چھت ٹھہرایا، اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بڑی ہی اچھی بنائیں اسی نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا، یہ ” اللہ“ ہی تمہارا رب ہے اور بے حساب برکتوں والا ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔[غافر: 64]
ہمارا پروردگار حکمت والا اور علم والا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا (47) وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا (48) لِنُحْيِيَ بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا وَنُسْقِيَهُ مِمَّا خَلَقْنَا أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا ترجمہ: اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس، نیند کو آرام اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا ہے۔ [47] اور وہی ہے جو باران رحمت سے پہلے خوش خبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم نے ہی آسمان سے پاک پانی برسایا ہے۔ [48] تاکہ اس کے ذریعے سے مردہ شہر کو زندہ کر دیں اور اسے ہم اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو پلاتے ہیں۔ [الفرقان: 47-49]
ہمارے پروردگار نے ہی ساری انسانیت کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے ، فرمانِ باری تعالی ہے: يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ترجمہ: اے لوگو! تم سب اپنے رب سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے، اور پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ [النساء: 1]
ہمارا پروردگار طاقت ور اور قدرت رکھنے والا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا ترجمہ: اللہ تعالیٰ ہی یقیناً آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ کہیں سرک نہ جائیں اور اگر وہ سرک جائیں تو اس کے بعد انہیں کوئی بھی اپنی جگہ پر برقرار نہیں رکھ سکتا۔ بلاشبہ وہ بڑا بردبار اور معاف کرنے والا ہے۔ [فاطر: 41]
ہمارے پروردگار نے ہی ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ترجمہ: اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق ہے، اور وہ ہر چیز کے امور کو سنوارتا ہے۔ [الزمر: 62]
اللہ تعالی نے ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطًا ترجمہ: اور اللہ تعالی نے ہمیشہ سے ہی ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ [النساء: 126]
حکم صرف اور صرف اللہ تعالی کا ہی چلتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ ترجمہ: پہلے اور بعد ہر وقت میں ہی اللہ تعالی کا حکم چلتا ہے۔ [الروم: 4]
سب معاملات کی باگ ڈور اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ ترجمہ: آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ چیزوں کو اللہ جانتا ہے، اور سب معاملات کی باگ ڈور اسی کے سپرد کی جاتی ہے۔ [هود: 123]
تو اللہ تعالی نے ہی ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں، اور اس کے علاوہ کسی سے اپنے امور کا فیصلہ نہ کروائیں، فرمانِ باری تعالی ہے: إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ترجمہ: فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اللہ کا ہے، اسی نے حکم دیا کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو۔ [يوسف: 40]
اللہ تعالی نے ہمیں اپنی اطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ترجمہ: اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ [آل عمران: 132]
اللہ تعالی نے ہمیں اخلاق حسنہ اپنانے کا حکم دیا ہے اور ہمہ قسم کی بد اخلاقی سے منع کیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ رجمہ: یقیناً اللہ تعالی عدل ، احسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی و برائی سے روکتا ہے وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ [النحل: 90]
اللہ تعالی نے ہمیں اچھے کاموں میں باہمی تعاون کا حکم دیا ہے، جبکہ ہمہ قسم کے شر سے ہمیں خبر دار کیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں پر باہمی تعاون کرو، برائی اور زیادتی کے کاموں پر باہمی تعاون مت کرو۔ [المائدة: 2]
پیدا کرنا، مخلوقات کے معاملات چلانا اور اس پر بادشاہی صرف اللہ تعالی کا حق ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ترجمہ: آسمانوں اور زمین سمیت ان میں ہر چیز پر اللہ کی بادشاہی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [المائدة: 120]
دل فطری طور پر یہ اقرار کرتے ہیں کہ بادشاہت اور پیدا کرنے کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالی کا ہے، کسی اور کا بالکل نہیں ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: قُلْ لِمَنِ الْأَرْضُ وَمَنْ فِيهَا إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (84) سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (85) قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (86) سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (87) قُلْ مَنْ بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (88) سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ فَأَنَّى تُسْحَرُونَ (89) بَلْ أَتَيْنَاهُمْ بِالْحَقِّ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ترجمہ: آپ کہیں: زمین کس کی ہے اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے؟ بتلاؤ اگر تم جانتے ہو [84] وہ سب کہیں گے: یقیناً اللہ کے لیے۔ آپ کہ دو: تو کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟! [85] آپ کہیں: ساتوں آسمانوں اور عظیم عرش کا رب کون ہے؟ [86] تو وہ سب کہیں گے: اللہ کے لیے ہے۔ آپ کہہ دیں: تو پھر تم تقوی کیوں نہیں اپناتے۔ [87] آپ کہیں: ہر چیز کی بادشاہت کس کے ہاتھ میں ہے؟ اور وہ کون ہے جو خود پناہ دیتا ہے اس کے مقابلے میں کسی کو پناہ نہیں دی جا سکتی؟ بتلاؤ اگر تم جانتے ہو! [88] تو وہ سب کہیں گے : اللہ کے لیے ہے۔ تو آپ کہہ دیں: تو پھر تم پر کس کا جادو چل جاتا ہے؟ [89] بلکہ حقیقت یہ ہے کہ : ہم ان کے پاس حق لائے ہیں ، لیکن وہ خود ہی جھوٹے ہیں۔ [المؤمنون: 84-90]
لوگو! تم جواب کیوں نہیں دیتے؟ کہ اللہ تعالی چیلنج کرتے ہوئے فرماتا ہے: قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَى قُلُوبِكُمْ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِهِ ترجمہ: کہہ دے! تم بتلاؤ کہ اگر اللہ تمہاری سماعت اور بصارت ختم کر دے، اور تمہارے دلوں کو مہر بند کر دے۔ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ ہے جو تمہیں یہ واپس لوٹا دے؟ [الأنعام: 46]
لوگو! کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟: قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِضِيَاءٍ أَفَلَا تَسْمَعُونَ (71) قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ترجمہ: کہہ دیجئے! کہ دیکھو تو سہی اگر اللہ تعالیٰ تم پر رات ہی رات قیامت تک برابر کر دے تو سوائے اللہ کے کون معبود ہے جو تمہارے پاس دن کی روشنی لائے؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟ [71] پوچھئے! کہ یہ بھی بتا دو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ قیامت تک دن ہی دن رکھے تو بھی سوائے اللہ کے کوئی معبود ہے جو تمہارے پاس رات لے آئے؟ جس میں تم آرام حاصل کر سکو، کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو؟ [القصص: 71-72]
کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟ : أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ (58) أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ ترجمہ: تم بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو کیا تم نے اسے پیدا کیا ہوتا ہے یا ہم اسے پیدا کرنے والے ہیں؟ [الواقعۃ: 58-59]
کیا تم بصیرت نہیں رکھتے کہ: أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ (63) أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ ترجمہ: تم اپنی کھیتی باڑی کے بارے میں بتلاؤ، کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اسے اگاتے ہیں؟[الواقعة: 63-64]
کیا تم دیکھتے نہیں کہ : أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ (68) أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ (69) لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ (70) أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ (71) أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ (72) نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِلْمُقْوِينَ (73) فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ترجمہ: اچھا یہ تو بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو۔ [68] اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں۔ [69] اگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کردیں پھر ہماری شکر گزاری کیوں نہیں کرتے؟ [70] اچھا ذرا یہ بھی بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو۔ [71] اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں ۔ [72] ہم نے اس درخت کو یاد دہانی کا ذریعہ اور مسافروں کے فائدے کی چیز بنا دیا ہے۔ [73] لہٰذا اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح کرو جو بڑا عظمت والا ہے۔ [الواقعة: 68-74]
کیا تم یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ کس نے رات اور دن کو، سورج اور چاند کو، تاروں اور سیاروں کو مسخر کیا ہے؟ یقیناً یہ کام صرف ایک اللہ کی ذات کر سکتی ہے، جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ترجمہ: اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو مسخر کیا، سورج اور چاند کو مسخر کیا، تارے بھی اسی کے حکم سے مسخر ہیں؛ یقیناً اس میں عقل رکھنے والی قوم کے لیے نشانیاں ہیں۔ [النحل: 12]
اگر اللہ تعالی نے ہی ہم سب کو پیدا کیا ہے، وہی ہم سب کو رزق عطا فرماتا ہے، وہی اس کائنات کے تمام تر معاملات چلا رہا ہے، وہی ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو عبادت کا بھی صرف وہی حقدار ہو گا کوئی اور نہیں؛ کیونکہ وہی ذات ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے، اور سب کو قائم رکھے ہوئے ، وہی پیدا کرنے والا اور رزق دینے والا ہے، وہی عالم اور قادر ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ جو بھی ہے وہ عاجز بھی ہے ، کمزور اور ضعیف بھی ہے، نہ تو اس میں پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ رزق دے سکتا ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی نفع یا نقصان کا مالک نہیں ہے۔ فرمانِ باری تعالی ہے: وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ (19) وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ (20) أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (21) إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنْكِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ ترجمہ: اور جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔ [19] اور اللہ کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کوئی چیز کیا خاک پیدا کریں گے وہ تو خود پیدا کئے گئے ہیں [20] وہ مردے ہیں زندہ نہیں۔ انہیں یہ بھی پتا نہیں کہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ [21] تمہارا الٰہ بس ایک ہی ہے پھر جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے، انکار ان کے دلوں میں رچ بس گیا ہے اور اکڑ بیٹھے ہیں۔ [النحل: 19-22]